Health
بچوں کی دماغی نشوونما اور انتشار زدہ ماحول کا اثر - نیکسورا نیوز
حال ہی میں کی جانے والی ایک سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کے گردونواح کا انتشار اور بے قاعدہ ماحول ان کے دماغ کی نشوونما پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ مطالعہ ابتدائی عمر میں پرسکون اور معاون ماحول کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
حال ہی میں سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی ایک اہم تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ابتدائی عمر میں بچوں کو ملنے والا ماحول ان کے دماغ کی تشکیل اور ساخت میں انتہائی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر بچے ایسے ماحول میں پرورش پائیں جہاں شور شرابا، عدم تحفظ یا شدید قسم کا انتشار پایا جاتا ہو، تو اس کے براہ راست منفی اثرات ان کے دماغ کی ارتقائی صلاحیتوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انسانی دماغ اپنی ابتدائی زندگی کے سالوں میں انتہائی تیزی سے بڑھتا ہے اور بیرونی دنیا کے حالات کو جذب کرتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ منتشر ماحول میں رہنے والے شیرخوار بچوں کے اعصابی نیٹ ورک اور سگنلنگ کے نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں طویل المدت بنیادوں پر بچے کی ذہنی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت اور جذباتی توازن کو متاثر کرتی ہیں۔ اس تحقیق نے ایک بار پھر اس بات کی تائید کی ہے کہ بچوں کے لیے ایک پرسکون، محفوظ اور مستحکم گھریلو ماحول فراہم کرنا کتنا ضروری ہے تاکہ ان کا دماغ صحت مند خطوط پر استوار ہو سکے۔
ماہرینِ نفسیات اور اطفال نے والدین اور سرپرستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے اردگرد کے حالات کو حتی الامکان پرامن رکھنے کی کوشش کریں۔ بچوں کو مثبت اور باقاعدہ روٹین فراہم کرنے سے نہ صرف ان کے ذہنی سکون میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان کی فکری اور علمی صلاحیتیں بھی بہتر انداز میں پروان چڑھتی ہیں۔ یہ مطالعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ معاشرے میں بچوں کی ابتدائی فلاح و بہبود اور ذہنی صحت کے حوالے سے شعور بیدار کیا جائے۔