AI
اے آئی کمپنیاں بوٹس کے حملوں کی ذمہ دار ہوں، ہیک شدہ کمپنی کا مطالبہ
مصنوعی ذہانت کی حامل ایک ہیک شدہ کمپنی کے سربراہ کلیمنٹ ڈی لانگ نے مطالبہ کیا ہے کہ اے آئی فرمز کو خود مختار بوٹس کے اقدامات پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر کمپنیوں پر ہونے والے سائبر حملوں کو معمول نہیں بننے دینا چاہیے۔
مصنوعی ذہانت کی ایک نمایاں کمپنی کے سربراہ کلیمنٹ ڈی لانگ نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی فرمز کو اپنے خود مختار بوٹس کے ذریعے ہونے والے نقصانات اور حملوں کا جواب دینا ہوگا۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان کی اپنی کمپنی کو سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے انڈسٹری میں سکیورٹی کے معیارات کو سخت کرنے پر زور دیا ہے۔ ڈی لانگ کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی بنانے والے ادارے اپنی مصنوعات کے غلط استعمال یا خود مختار سسٹمز کے رویے کی ذمہ داری قبول کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ دیگر کمپنیوں کے خلاف ہونے والے اس طرح کے سائبر حملے عام اور معمول کی بات بن جائیں، جنہیں معاشرہ اور انڈسٹری خاموشی سے قبول کر لے۔ جدید مصنوعی ذہانت کے دور میں جہاں بوٹس خود بخود فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ماہرین کے نزدیک سکیورٹی کے یہ خدشات انتہائی اہم ہیں۔ اگر کمپنیاں بروقت حفاظتی اقدامات نہیں کرتیں تو اس سے نہ صرف تجارتی رازوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ریگولیٹرز اور ٹیکنالوجی لیڈر مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس کے تحت ہر اے آئی فرم اپنے سسٹمز کی مکمل جوابدہی کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔