LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری فریم ورک بٹ کوائن ایشیا میں زیر بحث

News Image
بٹ کوائن ایشیا کانفرنس کے دوران پاکستان کے ورچوئل اثاثہ جات اور ڈیجیٹل کرنسی کے ضابطہ کار نظام نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس پیش رفت سے ملک میں ڈیجیٹل معیشت اور فِن ٹیک کے شعبے میں نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔
بٹ کوائن ایشیا کے حالیہ عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کے ورچوئل اثاثہ جات کے ریگولیٹری فریم ورک نے بین الاقوامی سطح پر شاندار توجہ مبذول کر لی ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرینِ معاشیات، سرمایہ کاروں اور کرپٹোগ্রাফি کے ماہرین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اس ابھرتے ہوئے شعبے میں ضابطہ کار کے حوالے سے انتہائی اہم اقدامات اٹھا رہا ہے۔ اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وفود نے ملک کے نئے ڈیجیٹل فریم ورک کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو ایک محفوظ اور شفاف دائرہ کار فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عالمی سطح پر پذیرائی سے نہ صرف ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ فِن ٹیک انڈسٹری کو بھی ایک مستحکم بنیاد ملے گی۔ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد نے اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم ملک کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم ثابت ہوگا۔ حکومت کی جانب سے ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک واضح پالیسی وضع کرنے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں، اور عالمی جریدے بھی اب پاکستانی مارکیٹ کی صلاحیتوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان کے ساتھ ٹیکنالوجی اور بلاک چین کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کے ضابطہ کار میں مزید بہتری لائی جائے گی تاکہ ملک کے اندر اور باہر دونوں سطحوں پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا ٹیکنالوجی سیکٹر دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی پالیسیاں اب بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن رہی ہیں۔