LIVE
Loading Breaking News...

سودیم آئن بیٹری ٹیکنالوجی میں اہم سنگ میل عبور

News Image
کیلیفورنیا کے ایک اسٹارٹ اپ یونگریڈ نے منفی بیس ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی ہنڈائی کے سخت ترین حفاظتی ٹیسٹ کامیابی سے پاس کر لیے ہیں۔ یہ سنگ میل لیتھیم آئن بیٹریوں کے متبادل کے طور پر سودیم آئن ٹیکنالوجی کو ایک مضبوط اور قابل بھروسہ آپشن بناتا ہے۔
بیٹری ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے کیلیفورنیا کے ایک جدید اسٹارٹ اپ 'یونگریڈ' (Unigrid) نے سودیم آئن بیٹریوں کی تیاری میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی نے جنوبی کوریا کی معروف آٹوموبائل کمپنی ہنڈائی کے سخت ترین حفاظتی اور کارکردگی کے ٹیسٹ کامیابی سے پاس کر لیے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان بیٹریوں نے منفی بیس (-20) ڈگری سینٹی گریड جیسی شدید سردی میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جو روایتی بیٹریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو لیتھیم آئن بیٹریوں کا ایک انتہائی زبردست اور زبردست متبادل قرار دیا ہے۔ لیتھیم آئن بیٹریاں پچھلے کئی سالوں سے اسمارٹ فونز سے لے کر بڑے پاور اسٹیشنز اور الیکٹرک گاڑیوں تک دنیا بھر میں توانائی کے ذخیرہ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ رہی ہیں۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کو بعض بنیادی خامیوں اور حدود کا سامنا ہے جن میں لیتھیم اور کوبالٹ جیسے نایاب اور مہنگے خام مال کی محدود دستیابی اور اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔ اس کے برعکس، سودیم یعنی سوڈیم کثرت سے پایا جانے والا عنصر ہے جو سستا بھی ہے اور ماحول دوست بھی۔ یونگریڈ کی اس نئی پیش رفت سے دنیا بھر کی صنعتوں کو بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں بڑی مدد ملے گی اور قیمتوں میں بھی کمی متوقع ہے۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سودیم آئن بیٹریاں مستقبل قریب میں توانائی کے شعبے کا نقشہ بدل سکتی ہیں۔ ہنڈائی جیسے بڑے آٹوموبائل ادارے کی طرف سے ان بیٹریوں کی توثیق اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب صرف تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ تجارتی پیمانے پر استعمال کے لیے بالکل تیار ہے۔ یونگریڈ کے بانیوں اور انجینئرز نے بیٹری کی کیمسٹری اور اس کی ساخت میں ایسی جدت کی ہے جو بیٹری کو زیادہ گرم ہونے یا آگ لگنے کے خطرات سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ اس کامیابی کے بعد اب سرمایہ کاروں اور بڑی کار ساز کمپنیوں کی توجہ بھی اس طرف مبذول ہو چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ سودیم آئن بیٹریاں نہ صرف الیکٹرک گاڑیوں بلکہ شمسی توانائی اور دیگر رینیوایبل انرجی سسٹمز میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوں گی۔ اس سے لیتھیم پر انحصار کم ہوگا اور سپلائی چین کے بحرانوں سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ یونگریڈ کا یہ کارنامہ بیٹری ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، جس سے صارفین کو مستقبل میں زیادہ سستی، محفوظ اور پائیدار توانائی کی فراہمی یقینی ہو سکے گی۔