LIVE
Loading Breaking News...

سنگاپور کی نئی بے بی بونس اسکیم اور شرح پیدائش کا بحران

News Image
سنگاپور نے کم ہوتی ہوئی شرح پیدائش پر قابو پانے کے لیے اپنی طویل عرصہ سے جاری بے بی بونس اسکیم میں جامع اصلاحات متعارف کرا دی ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ نئے مالیاتی اور خاندانی مراعات سے ملک میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔
سنگاپور کی حکومت نے ملک میں بچوں کی پیدائش کی انتہائی کم ہوتی ہوئی شرح اور گھٹتی ہوئی آبادی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی تاریخی بے بی بونس اسکیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اسکیم سب سے پہلے سنہ 2001 میں متعارف کروائی گئی تھی جس کا مقصد والدین کو مالی امداد فراہم کرنا اور خاندان بڑھانے کی ترغیب دینا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے معاشی حالات اور خاندانی رجحانات کی وجہ سے یہ اسکیم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ حالیہ برسوں کے دوران سنگاپور میں بچوں کی پیدائش کی شرح ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جو کہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا معاشی اور سماجی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ نئی اصلاحات کے تحت حکومت کی جانب سے شادی شدہ جوڑوں اور نئے والدین کے لیے مالی معاونت کے پیکیج کو مزید پرکشش بنایا جا رہا ہے۔ اس نئی پالیسی میں نقد انعامات کے علاوہ بچوں کی پرورش، ڈے کیئر سینٹرز اور صحت کی سہولیات کے لیے اضافی مدد فراہم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد نوجوان جوڑوں کے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے تاکہ وہ خاندان بڑھانے کے بارے میں مثبت سوچ سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگاپور جیسے ترقی یافتہ ممالک میں جہاں زندگی کی بلند لاگت اور کام کے اوقات کار بہت سخت ہیں، محض مالی مراعات سے مکمل طور پر شرح پیدائش کو بڑھانا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس لیے اس نئی اسکیم کے ساتھ ساتھ کام کی جگہوں پر لچکدار ماحول اور خاندانی زندگی کو متوازن رکھنے کے لیے مزید پالیسیوں کی بھی اشد ضرورت ہوگی۔ سنگاپور کی حکومت کو امید ہے کہ یہ جامع تبدیلیاں طویل مدت میں مثبت اثرات مرتب کریں گی اور ملک کو آبادی کے اس گھمبیر بحران سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔