Education
اسکولوں میں مصنوعی ذہانت اور طلبہ کی تنقیدی سوچ پر اثرات
نیوزی لینڈ کے اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال طلبہ کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ بچے خود دماغ استعمال کرنے کے بجائے اے آئی سے فوراً جوابات حاصل کر رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کا بڑھتا ہوا استعمال اساتذہ کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ وانگاری سے تعلق رکھنے والی ایک معلمہ نے خبردار کیا ہے کہ کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کا بے دریغ استعمال طلبہ کی تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ اب خود محنت کرنے کے بجائے تمام تر ذہنی بوجھ اے آئی پر ڈال رہے ہیں اور براہ راست جوابات کاپی کر کے اپنا کام چلا رہے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں اس تبدیلی نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں طلبہ کی فکری تربیت کیسے کی جائے۔ ایجوکیشن ریویو آفس (ERO) کی حالیہ رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت نیوزی لینڈ کے کلاس رومز کا ایک مستقل حصہ بن چکی ہے، لیکن اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے توازن قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز نے جہاں ایک طرف سیکھنے کے عمل کو آسان بنایا ہے، وہیں دوسری طرف طلبہ کی طبعی صلاحیتوں اور پرابلم سالونگ اسلز کو کند کر دیا ہے۔ اسکولوں میں اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے واضح ضابطہ اخلاق مرتب کیے جائیں تاکہ نئی نسل کی ذہنی نشوونما متاثر نہ ہو۔ اساتذہ کا اصرار ہے کہ ٹیکنالوجی کو معاون کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ طالب علم کی فکری صلاحیتوں کے متبادل کے طور پر، بصورت دیگر مستقبل کے ماہرین اور محققین کی تیاری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔