LIVE
Loading Breaking News...

چینی ٹیکنالوجی پالیسی اور سائبر سنسرشپ کا جائزہ

News Image
چینی کمیونسٹ پارٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے شہریوں کی مواصلات اور رائے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا مقصد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر معلومات کی ترسیل کو متاثر اور سانسور کرنا ہے۔
چین میں حکومتی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے پر مکمل اجارہ داری قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جن کا مقصد نہ صرف اندرونی طور پر معلومات کا بہاؤ روکنا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی مواصلات کو متاثر کرنا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی ٹیکنالوجی کو ایک ایسے آلے کے طور پر استعمال کرتی ہے جس کے ذریعے عوامی آراء اور مواصلاتی ذرائع کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکے اور تنقیدی آوازوں کو دبایا جا سکے۔ جدید دور میں ڈیجیٹل سنسرشپ کی یہ حکمت عملی انتہائی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تکنیکی مسابقت میں یہ امور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ سمیکنڈکٹرز، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور روبوٹکس کے شعبوں میں چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی نے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ چینی ہیکرز اور سرکاری ادارے عالمی سطح پر معلومات تک رسائی کو محدود کرنے اور اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے سائبر اسپیس کو استعمال کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، چین کی یہ پالیسی نہ صرف اس کے اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتی ہے بلکہ سرحدوں سے باہر بسنے والے افراد کی آزادانہ مواصلات کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کی ٹیکنالوجی مزید ترقی کر رہی ہے، اسی حساب سے ریاستوں کی جانب سے اطلاعات پر کنٹرول حاصل کرنے کے حربے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں امریکہ اور چین کے مابین تکنیکی سرد جنگ کے دوران سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل مزید شدت اختیار کرنے کا اندیشہ ہے۔