AI
مصنوعی ذہانت اور زونوسس بیماریاں: اگلی وبا کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟
یوگنڈا کے جنگلات میں زونوسس بیماریوں کی مانیٹرنگ کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کسی بھی بڑی عالمی وبا کو پھیلنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
یوگنڈا کا مشہور بوینڈی امپینیٹریبل نیشنل پارک اپنے نایاب پہاڑی گوریلوں اور خوبصورت مناظر کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ اس سرسبز و شاداب اور دھند میں لپٹے ہوئے خطے میں تقریباً 120 اقسام کے ممالیہ جانور اور سینکڑوں دیگر حیات بسیرا کرتی ہیں۔ تاہم، یہ حیاتیاتی تنوع اپنے اندر کچھ ایسے خطرناک جراثیم بھی رکھتا ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو کر سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان زونوسس (zoonotic) بیماریوں کی بروقت شناخت اور ان پر قابو پانے کے لیے اب جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے ماڈلز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
سائنسدانوں اور محققین کا کہنا ہے کہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنگلی حیات میں پائے جانے والے وائرسز اور دیگر پیتھوجینز کی نگرانی زیادہ مؤثر طریقے سے کی جا سکتی ہے۔ مختلف ڈیٹا پوائنٹس، جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت، موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانوں کے ساتھ ان کے میل جول کا جائزہ لے کر اے آئی ماڈلز پہلے ہی سے ممکنہ خطرات کی پیشگوئی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے صحت عامہ کے اداروں کو بروقت وارننگ مل جاتی ہے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ انفیکشن کو وبائی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی روک سکیں۔
اس تحقیق سے وابستہ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کوئی جادوئی حل نہیں ہے، لیکن یہ زونوسس بیماریوں کے خلاف جنگ میں ایک گیم چنجر ثابت ہو سکتی ہے۔ کووڈ-19 کے بعد پوری دنیا کا طبی ڈھانچہ اس بات پر متفق ہے کہ اگلی کسی بھی بڑی عالمی وبا سے نمٹنے کا بہترین طریقہ اس کی بروقت روک تھام اور ابتدائی اشارے ہیں۔ یوگنڈا جیسے حساس جنگلات میں اس ٹیکنالوجی کا کامیاب نفاذ نہ صرف مقامی آبادی اور جنگلی حیات کو محفوظ بنائے گا بلکہ پوری دنیا کو مستقبل کے خطرناک بحرانوں سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔