Business
بھارت چین بالوں کی تجارت تنازع اور انسانی بالوں کی برآمدات
بھارت اور چین کے درمیان انسانی بالوں کی تجارت کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، جہاں بھارتی برآمدکنندگان کو چینی نمائش کے لیے ویزے دینے سے انکار کیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر چین میانمار کے راستے بھارتی بالوں کی پروسیسنگ کر رہا ہے جس سے بچوں کی مشقت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان انسانی بالوں کی تجارت کے معاملے پر تجارتی اور سفارتی سطح پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بھارت بڑے پیمانے پر کچے بالوں کی برآمد کرتا ہے جبکہ تیار شدہ وِگ اور بالوں کی مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، چین مبینہ طور پر میانمار کے راستے بھارتی انسانی بالوں کی پروسیسنگ کا کام لے رہا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کی مشقت اور دیگر اخلاقی امور پر شدید خدشات نے جنم لیا ہے۔ یہ صورتحال دونوں ممالک کے مابین پہلے سے کشیدہ تجارتی تعلقات میں مزید تلخی کا باعث بن رہی ہے۔
اس تنازعے کی ایک اور اہم کڑی بھارتی برآمدکنندگان کو درپیش مشکلات ہیں، جنہیں چین میں منعقد ہونے والی ایک بڑی وِگ نمائش میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ بھارتی تاجروں کا ماننا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بھارتی کاروباری شخصیات کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی سے روکنا اور چینی صنعت کو غیر منصفانہ برتری فراہم کرنا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت عالمی منڈی میں انسانی بالوں کے بڑے فراہم کنندگان میں شامل ہے، اور اس شعبے سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نہ صرف دونوں ممالک کی بال سازی کی صنعت متاثر ہو رہی ہے بلکہ سپلائی چین کے نظام میں بھی بڑی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ میانمار کے راستے ہونے والی مبینہ غیر قانونی یا غیر اعلانیہ پروسیسنگ کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر بھی نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اگر اس مسئلے کو سفارتی اور تجارتی سطح پر جلد حل نہ کیا گیا تو یہ تنازعہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے اور اس سے عالمی سطح پر بالوں کی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔