Health
فوڈ سسٹم اور بڑی تماکو کمپنیاں: ایک پوشیدہ تاریخی حقیقت
ایک حالیہ انکشاف میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماضی میں بڑی تماکو کمپنیوں نے کس طرح جدید غذائی نظام اور ہماری روزمرہ خوراک کو متاثر کیا۔ اس تحقیق اور انٹرویو کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ناقص خوراک اور صنعتی پیداوار کے پیچھے کون سی کارپوریٹ حکمت عملی کارفرما تھیں۔
جدید فوڈ انڈسٹری اور ہماری روزمرہ کی خوراک کے پیچھے ایک ایسی تاریک اور پوشیدہ تاریخ کارفرما ہے جس کے بارے میں عام لوگ بہت کم جانتے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس اور کتاب 'گڈ انرجی' کے مصنف کیلی مینز کے انٹرویو سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ بڑی تماکو کمپنیوں کا ہمارے موجودہ غذائی نظام کو تشکیل دینے میں گہرا ہاتھ رہا ہے۔ اس انکشاف نے ماہرینِ صحت اور محققین کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں وہ محض اتفاق نہیں بلکہ کارپوریٹ حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے۔
ماضی میں جب تماکو کی صنعت پر دباؤ بڑھا اور لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا، تو بڑی تماکو کمپنیوں نے اپنی سرمایہ کاری کے ذرائع کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ انہوں نے فوڈ کارپوریشنز میں بڑے پیمانے پر حصص خریدے اور اپنی مارکیٹنگ کی وہی مہارت جو وہ سگریٹ فروخت کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے، پراسیسڈ فوڈ، سنیکس اور میٹھے مشروبات کی ترویج کے لیے استعمال کی۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں لوگوں کی غذائی عادات میں خطرناک تبدیلیاں آئیں اور موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر امراض میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
کیلی مینز اور دیگر پالیسی سازوں کے مطابق، اس گٹھ جوڑ نے پبلک ہیلتھ پالیسیوں کو بھی شدید متاثر کیا۔ فوڈ انڈسٹری نے تحقیق اور سائنسی مطالعے کو اس طرح ڈھالا کہ پراسیسڈ کھانوں کے نقصانات عوام سے پوشیدہ رہیں۔ حکومتوں اور ریگولیٹری اداروں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایسی غذائی گائیڈ لائنز جاری کریں جو کارپوریٹ مفادات کے خلاف نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں صحت عامہ کا بحران سنگین شکل اختیار کر چکا ہے اور روایتی کھانوں کی جگہ کیمیکل زدہ اشیاء نے لے لی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پوشیدہ تاریخ کو سمجھنا اور اس کے اثرات کا ادراک کرنا ہمارے مستقبل کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جب تک صارفین اور پالیسی ساز اس کارپوریٹ جال کو نہیں سمجھیں گے، تب تک صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی خوراک کے انتخاب میں بیداری پیدا کریں اور ایسے غذائی نظام کی حمایت کریں جو انسانی صحت کو منافع پر ترجیح دے۔