World
لندن میں ڈیلیوری ڈرائیورز کی غیر قانونی خیمہ بستی اور مسائل
لندن کے ایک فیشن ایبل علاقے میں قائم ڈیلیوری رائیڈرز کی خیمہ بستی نے مقامی رہائشیوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس غیر قانونی کیمپ میں منشیات کے استعمال اور صفائی کے فقدان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
لندن کے ایک پرتعیش اور جدید علاقے میں جہاں ایک طرف کافی بارز، ٹیکنالوجی کے نئے ادارے اور پرکشش ریستوران موجود ہیں، وہیں بالکل قریب ایک ایسی خیمہ بستی قائم ہو چکی ہے جو اس شہر کے بدترین اور پریشان کن مقامات میں شمار کی جا رہی ہے۔ یہ کوئی باقاعدہ مکان یا اپارٹمنٹ نہیں ہے بلکہ ایک پل کے نیچے لگائے گئے خیموں کا ایسا انبار ہے جو زیادہ تر کھانے کی ترسیل کا کام کرنے والے ڈلیوری رائیڈرز کا مسکن بن چکا ہے۔ یہاں کے حالات نے نہ صرف ارد گرد کے ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ مقامی رہائشیوں کی روزمرہ زندگی کو بھی خوف اور عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔
مقامی شہریوں اور قریب رہائش پذیر افراد کا کہنا ہے کہ اس خیمہ بستی کی وجہ سے علاقے میں جرائم اور ناپسندیدہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کیمپ کے ارد گرد کھلے عام غلاظت پھیلانے اور سڑکوں پر گندگی کے ڈھیر لگنے کے واقعات عام ہو چکے ہیں، جس سے شدید صحت اور صفائی کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ رات کے وقت یہاں منشیات کے استعمال اور غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے خواتین اور بچوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ اکیلے اس راستے سے گزرنے سے کتراتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بڑے معاشی اور سماجی تضاد کو بھی اجاگر کرتی ہے جو جدید شہری زندگی میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔ ایک طرف جہاں ایپ پر مبنی معیشت کے ذریعے منٹوں میں کھانا گھروں تک پہنچانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف اس نظام کے اہم ترین کارندے یعنی ڈیلیوری رائیڈرز بنیادی رہائش اور سہولیات سے محروم نظر آتے ہیں۔ کم اجرت، مہنگائی اور رہائشی بحران کے باعث یہ محنت کش اس طرح کے غیر قانونی اور کسمپرسی کے حالات میں رہنے پر مجبور ہیں، جو اربن پلاننگ اور لیبر قوانین پر بھی کئی سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔
مقامی کونسل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس خیمہ بستی کے مکینوں کے لیے مناسب اور انسانی بنیادوں پر رہائشی انتظامات کیے جائیں جبکہ اس علاقے میں امن و امان کی بحالی اور صفائی ستھری کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب، متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس پیچیدہ مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ ایک طرف محنت کشوں کے حقوق کا خیال رکھا جا सके اور دوسری طرف عام شہریوں کے سکون اور تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔