LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران میں عسکری تصادم، حملوں کا نیا سلسلہ شروع

News Image
امریکہ اور ایران کی افواج کے درمیان کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد ایک بار پھر براہ راست حملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس تازہ ترین کشیدگی کے دوران خلیج فارس اور اردن میں واقع اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کی افواج کے درمیان کئی ہفتوں کے تعطل کے بعد ایک بار پھر براہ راست حملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا ہے، جس سے خطے میں ایک ماہ کے دوران سب سے بڑی عسکری کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب لارک جزیرے پر ایرانی میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔ چند ہفتوں میں ہونے والا یہ پہلا معلوم امریکی حملہ ہے جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے ردعمل میں ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بھی تاخیر کیے بغیر جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ ایرانی فورمز اور عسکری ذرائع کے مطابق اردن میں موجود امریکی اور اتحادی فوجی اڈوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تازہ ترین جھڑپیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی آنے کے بجائے عارضی وقفے کے بعد مزید شدت آ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے اہم تجارتی راستے پر ہونے والی اس بمباری کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں اطراف سے عسکری سرگرمیاں تیز کیے جانے کے بعد عالمی رہنماؤں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کو موقع مل سکے۔