World
گوگل میپس پر لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کر کے لیک امریکہ رکھ دیا گیا
امریکی صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت گوگل میپس نے جھیل کا نام تبدیل کرکے لیک امریکہ کر دیا ہے۔ اس نام کی تبدیلی کے بعد کینیڈا اور امریکہ کے درمیان سفارتی اور جغرافیائی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی گوگل کے نقشہ جات کے نظام یعنی گوگل میپس میں ایک اہم اور متنازع تبدیلی کی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جاری کردہ ایک حالیہ ایگزیکٹو آرڈر کے تناظر میں، گوگل میپس نے 'لیک اونٹاریو' کا نام تبدیل کرکے باضابطہ طور پر 'لیک امریکہ' کر دیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد سے امریکہ اور اس کے پڑوسی ملک کینیڈا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ اس جھیل کا ایک بڑا حصہ کینیڈین سرحد کے ساتھ بھی واقع ہے۔ نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس نام کی تبدیلی نے جغرافیائی ناموں کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دوسری جانب، کینیڈا نے اس امریکی اقدام کے خلاف فوری اور منفرد ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کینیڈین حکام نے تنازع کے اس تسلسل میں ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے جھیل کے قریب ایک بہت بڑا 'لیک اونٹاریو' کا سائن بورڈ نصب کر دیا ہے جسے امریکہ کے لیے ایک طنزیہ اور واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ بی بی سی اور دی گارڈین کی رپورٹس کے مطابق اس علامتی جنگ نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور سیاسی کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نقشوں پر اس نوعیت کی تبدیلیاں سیاسی دباؤ اور حکومتی احکامات کا شاخسانہ ہوتی ہیں، جس سے بین الاقوامی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ گوگل اور متعلقہ حکام کی طرف سے اس معاملے پر مزید وضاحتوں کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ عام شہریوں اور جغرافیہ دانوں میں اس تبدیلی پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔