Politics
سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے مطالبات پر پیپلز پارٹی کا سخت مؤقف
پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات کو سختی سے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ صوبے کی تقسیم کی باتیں کرنے والے عناصر کو بے نقاب کیا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پیپلز پارٹی) نے صوبہ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے اٹھنے والی آوازوں کو صوبائی اسمبلی میں بھرپور طریقے سے مسترد کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اس مباحثے کی اجازت اس مقصد کے لیے دی جا رہی ہے تاکہ صوبے کی تقسیم کی حمایت کرنے والے عناصر کو عوام کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔ قیادت کا ماننا ہے کہ اس طرح کے مطالبات کا مقصد صوبے کی تاریخی سالمیت کو نقصان پہنچانا ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی سیاست کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سندھ کی جغرافیائی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنا پارٹی کا اولین فریضہ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں نئے صوبوں کا بحث ہمیشہ سے حساس نوعیت کا حامل رہا ہے، خصوصاً سندھ کے تناظر میں یہ معاملہ صوبائی خودمختاری اور ثقافتی شناخت کے ساتھ گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ اس وقت ملک کو پہلے ہی سنگین معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں لسانی یا علاقائی بنیادوں پر نئے صوبوں کی باتیں ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہیں۔ اسمبلی کے اندر ہونے والی اس بحث کے دوران حکمران جماعت کی جانب سے بھرپور دلائل دیے جائیں گے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ صوبے کی تقسیم کے حامی دراصل عوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں۔ سندھ کے عوام اور سیاسی کارکنان بھی اس معاملے پر کافی حساس ہیں۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے تمام اراکین اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس مباحثے میں بھرپور حصہ لیں اور صوبے کی سالمیت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کا آئینی اور سیاسی طریقے سے منہ توڑ جواب دیں۔ اس بحث سے صوبائی سیاسی منظرنامے میں ایک نیا ہلچل پیدا ہونے کا امکان ہے، جہاں تمام بڑی جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ عوام کے سامنے آئیں گی۔