Health
برطانیہ میں سیاہ فام برادری اور تیراکی کا مسئلہ
برطانیہ میں سیاہ فام برادری کے اندر تیراکی کی صلاحیت میں کمی کا مسئلہ کئی دہائیوں سے برقرار ہے۔ ماہرین اور مصنفین اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ اس تشویشناک رجحان کے پیچھے کون سے سماجی اور ثقافتی عوامل کارفرما ہیں۔
برطانیہ میں کئی دہائیوں سے یہ بات مشاہدے میں آرہی ہے کہ سفید فام آبادی کے مقابلے میں سیاہ فام برادری کے افراد میں تیراکی کی صلاحیت نمایاں طور پر کم ہے۔ یہ ایک ایسا دیرینہ معمہ ہے جس پر وقتاً فوقتاً بحث کی جاتی ہے مگر اس کے بنیادی اسباب کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر اس موضوع پر بحث کا آغاز ہوا ہے کہ آخر کیوں سیاہ فام برطانوی شہریوں کی ایک بڑی تعداد تیراکی سے ناآشنا یا اس کھیل میں پیچھے ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کے پیچھے متعدد تاریخی، معاشی اور ثقافتی عوامل کارفرما ہیں۔ ماضی میں سوئمنگ پولز تک رسائی محدود ہونا اور نسلی امتیاز کے مسائل اس رجحان کی بڑی وجوہات رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، بعض ثقافتی اقدار اور خاندانوں میں تیراکی کو ترجیح نہ دینا بھی نئی نسل کو اس سرگرمی سے دور رکھتا ہے۔ کئی خاندانوں میں پانی سے ڈر یا حفاظتی خدشات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ وہ بچوں کو اسکول کے علاوہ تیراکی سکھانے کی ترغیب نہیں دیتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے اب مختلف فلاحی تنظیمیں اور مقامی ادارے میدان میں آ رہے ہیں۔ وہ سیاہ فام برادری کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے خصوصی تیراکی کے تربیتی پروگرام شروع کر رہے ہیں تاکہ اس خلیج کو ختم کیا جا سکے۔ کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیراکی محض ایک تفریح نہیں بلکہ ایک اہم زندگی بچانے والی مہارت ہے، اس لیے تمام طبقات تک اس کی رسائی کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔
حکومت اور کھیلوں کے اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ پسماندہ علاقوں میں تیراکی کی سہولیات کو بہتر بنائیں اور مالی امداد فراہم کریں تاکہ ہر شخص اس بنیادی مہارت سے مستفید ہو سکے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں آگہی مہمات کے ذریعے اس دیرینے مسئلے پر قابو پایا جا سکے گا اور سیاہ فام برادری کے نوجوان بھی بڑی تعداد میں تیراکی کے مقابلوں اور سرگرمیوں کا حصہ بنیں گے۔