World
روسی حملے: یوکرین میں اسکولوں کی واپسی سے قبل بارہ ملین کتابیں تباہ
یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے اسکول کھلنے کے پہلے ہفتے سے قبل حملے کرکے تعلیمی اور ثقافتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں بارہ ملین سے زائد کتابیں جل کر تباہ ہو گئی ہیں۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی فضائی حملوں اور بمباری کے نتیجے میں ملک بھر میں اسکولوں کی واپسی کے پہلے ہفتے سے ٹھیک قبل بارہ ملین سے زائد کتابیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ روس دانستہ طور پر یوکرین کی ثقافت، تعلیمی اداروں اور شناخت کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس تباہی سے ملک کے تعلیمی نظام کو شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ لاکھوں بچوں کے لیے نصابی کتب کی فراہمی اب ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں پبلشرز، پرنٹنگ ہاؤسز اور عبادت گاہوں کو بھی مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یوکرین کے ثقافتی ورثے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ یوکرینی وزارتِ ثقافت اور تعلیم نے بین برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور تعلیمی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو رکوانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ یوکرین کے عوام اور اساتذہ اس تمام تر مشکل صورتحال کے باوجود تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن کتابوں کی اتنی بڑی تعداد میں تباہی نے تعلیمی سال کے آغاز کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔