World
یہودی برادری سنیاگاگ حملے کے بعد شدید کٹھن دور سے گزر رہی ہے
ربی ڈینیل واکر کا کہنا ہے کہ سنیاگاگ پر ہونے والے حملے کے بعد اب یہودی برادری خود کو زیادہ غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ برادری کے اراکین کو اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ مشکلات اور گہرے خوف کا سامنا ہے۔
ربی ڈینیل واکر کا کہنا ہے کہ سنیاگاگ پر ہونے والے حملے کے فوراً بعد کے وقت کے مقابلے میں اب یہودی برادری کہیں زیادہ کٹھن اور مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برادری کے اندر عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے اور لوگ خود کو پہلے سے زیادہ خطرے میں محسوس کر رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اقلیتوں بالخصوص یہودی برادری کے تحفظ کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ربی ڈینیل واکر نے اس بات پر زور دیا کہ واقعے کے ابتدائی ایام میں جو یکجہتی اور فوری حفاظتی اقدامات دیکھنے میں آئے تھے، اب طویل مدت میں اس کے اثرات ماند پڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے برادری کے افراد روزمرہ زندگی میں گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد پیدا ہونے والا صدمہ تو اپنی جگہ موجود تھا ہی، لیکن اب جو سماجی اور نفسیاتی دباؤ برادری پر پڑ رہا ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہے۔ لوگ اپنے عبادت خانوں اور اجتماعی مراکز میں جاتے ہوئے بھی خوف محسوس کرتے ہیں، جس سے ان کی آزادانہ نقل و حرکت اور رسومات کی ادائیگی متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد کمیونٹیز میں طویل المدتی نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے حکومتی اور سماجی سطح پر طویل المدتی اقدامات کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ربی ڈینیل واکر نے متعلقہ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ یہودی برادری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اور دیرپا حکمت عملی وضع کریں تاکہ لوگوں کے دلوں سے خوف کا یہ بادل چھٹ سکے اور وہ پٴُرسکون ماحول میں زندگی بسر کر سکیں۔