LIVE
Loading Breaking News...

ملینیئلز کا نیا رجحان: سوشل میڈیا چھوڑ کر باغبانی سے دل لگانے لگے

News Image
نوجوان نسل سوشل میڈیا کی لت اور منفی خبروں سے نجات کے لیے باغبانی کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ باغبانی نوجوانوں کو ذہنی سکون، خوشی اور ایک مربوط کمیونٹی کا احساس فراہم کر رہی ہے۔
جدید دور میں جہاں ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے انسانی زندگی کو گھیرے میں لے رکھا ہے، وہیں اب نوجوان نسل یعنی ملینیئلز نے اس ڈیجیٹل دلدل سے نکلنے کا انوکھا اور صحت مند طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ دنیا بھر میں نوجوان اب مسلسل اسکرین دیکھنے اور منفی خبروں کے زیرِ اثر رہنے کے بجائے پودے لگانے اور باغبانی کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کو اپنانے کی سب سے بڑی وجہ ذہنی دباؤ اور بے چینی سے نجات پانا ہے۔ سوشل میڈیا کی اس اندھی دوڑ کو عام طور پر 'ڈوم اسکرولنگ' کہا جاتا ہے، جس سے جان چھڑا کر نوجوان اب فطرت کے قریب جا رہے ہیں۔ باغبانی سے نہ صرف انسان کو دلی سکون ملتا ہے بلکہ یہ روزمرہ کی ہماہمی سے دور ایک پرامن ماحول بھی فراہم کرتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مٹی کے ساتھ کام کرنا اور پودوں کی دیکھ بھال کرنا ڈپریشن کی علامات کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس عمل سے نوجوانوں میں صبر اور برداشت کا مادہ بھی پیدا ہوتا ہے کیونکہ پودے کو پروان چڑھانے کے لیے وقت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مشغلہ نوجوانوں کو ایک نئی کمیونٹی سے بھی جوڑ رہا ہے جہاں وہ باغبانی کے شوقین دیگر افراد کے ساتھ اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ شہروں میں کمیونٹی گارڈنز اور چھتوں پر باغبانی کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جو ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ نوجوانوں کا یہ مثبت قدم نہ صرف ان کی اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ ہمارے سیارے کی بہتری کے لیے بھی ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔