LIVE
Loading Breaking News...

والدین کی مالی جانبداری اور اولاد کے تعلقات پر اثرات

News Image
والدین کی جانب سے بچوں میں مالی معاونت کا غیر مساوی رویہ اولاد کے درمیان طویل مدتی احساسِ محرومی اور حسد کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین نے اس مسئلے سے نمٹنے اور خاندانی رشتوں میں تلخی سے بچنے کے لیے اہم تجاویز دی ہیں۔
خاندانوں میں بچوں کے درمیان مالی جانبداری ایک ایسا حساس موضوع ہے جو اکثر نادانستہ طور پر یا بعض اوقات جان بوجھ کر اپنایا جاتا ہے۔ جب والدین اپنے ایک بچے کو کسی بڑے مالی پراجیکٹ، جیسے گھر خریدنے یا کاروبار شروع کرنے کے لیے بڑی رقم قرض یا تحفے کے طور پر دیتے ہیں اور دوسرے بچے کی معمولی مالی ضرورت کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں، تو اس کے نتائج طویل مدتی تناؤ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ یہ رویہ بالغ ہونے کے بعد بھی بہن بھائیوں کے درمیان رشتوں کو متاثر کرتا ہے اور ان میں حسد، احساسِ کمتری اور شدید غصے کے جذبات کو جنم دیتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اس قسم کا امتیاز نہ صرف متاثرہ بچے کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ پورے خاندان کے ماحول کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ اکثر والدین اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کے اس غیر منصفانہ رویے سے بچوں کے باہمی تعلقات ہمیشہ کے لیے خراب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مالی امداد کا مقصد ہمیشہ بچوں کی مدد کرنا ہوتا ہے، لیکن اگر اس میں توازن نہ ہو تو یہ محبت کی بجائے دوری کا سبب بن جاتی ہے۔ اس مسئلے سے بچنے کے لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام بچوں کے ساتھ مالی معاملات میں حتی الامکان شفافیت اور انصاف سے کام لیں۔ اگر کسی خاص موقع پر کسی ایک بچے کو زیادہ رقم دینے کی مجبوری بھی ہو، تو دوسرے بچوں کو اس کی معقول وجوہات سمجھائی جائیں تاکہ غلط فہمیوں کی گنجائش نہ رہے۔ اس کے علاوہ، بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ بالغانہ سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے والدین کے ساتھ کھلے دل سے بات کریں اور اپنے جذبات کا اظہار کریں تاکہ خاندانی ہم آہنگی برقرار رہے اور رشتوں میں کوئی دراڑ نہ آئے۔