World
برطانیہ میں قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کی اسکیم میں بڑی تبدیلی
برطانوی اخبارات میں انگلینڈ اور ویلز کے قیدیوں کے لیے حکومتی قبل از وقت رہائی کی اسکیم میں کی جانے والی تبدیلیوں کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ نئی تر ترمیم کے بعد اب سنگین جرائم میں ملوث مجرموں اور قاتلوں کو اس اسکیم کا فائدہ نہیں مل سکے گا۔
برطانوی میڈیا اور اخبارات میں پیر کے روز سب سے اہم موضوع انگلینڈ اور ویلز کے قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کی حکومتی اسکیم میں کی جانے والی تبدیلیاں رہیں۔ پیر کے روز شائع ہونے والے روزناموں کی سرخیوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت نے جیلوں میں جگہ کی کمی کے بحران سے نمٹنے کے لیے جو اسکیم متعارف کروائی تھی، اس میں اب اہم ترامیم کی جا رہی ہیں تاکہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ نئی پالیسی کے تحت سنگین جرائم میں سزا پانے والے مجرموں اور بالخصوص قاتلوں کو اس اسکیم کے تحت قبل از وقت رہا کیے جانے سے سختی سے روک دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ معاشرے میں کسی بھی قسم کے عدم تحفظ کے احساس کو ختم کیا جا سکے اور سنگین نوعیت کے مجرم اپنی مکمل سزا کاٹیں۔ اس کے علاوہ اخبارات میں پرنس ہاری سے متعلق سیکیورٹی کے امور اور مالی اعانت کے معاملات پر بھی بحث کی گئی ہے، جنہیں برطانیہ میں خاصی اہمیت حاصل ہے۔ مبصرین کے مطابق جیلوں کے نظام میں اصلاحات اور مجرموں کی رہائی کے قوانین کو سخت کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس پر عوامی سطح پر بھی ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس پوری صورتحال نے برطانوی سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جہاں ایک طرف جیلوں پر بوجھ کم کرنے کی بات کی جا رہی ہے تو دوسری طرف سڑکوں اور محلوں کی سلامتی کو سب سے مقدم رکھا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ اور اس کے اثرات کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اس سے جیلوں کے اندر دباؤ کتنا کم ہوتا ہے اور معاشرتی امن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔