World
سڈنی میں شارک کا حملہ، خاتون نے ڈائنوسار سے مقابلے قرار دیدیا
سڈنی کے کوگی بیچ پر وائٹ شارک کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی لیہ اسٹیورٹ نے حملے کے المناک لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ڈائنوسار سے لڑنے جیسا تھا۔ انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے شارک کو مکا مارا جس کی وجہ سے وہ بال بال بچ گئیں۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ساحل سمندر پر پیش آنے والے ایک خوفناک واقعے میں 34 سالہ لیہ اسٹیورٹ نے وائٹ شارک کے حملے کا سامنا کرنے کے بعد اپنے ہوشربا تجربے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ جون کے مہینے میں صبح کے وقت تیراکی کے دوران لیہ اسٹیورٹ پر ایک بڑی سفید شارک نے اچانک حملہ کر دیا تھا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ اس جان لیوا حملے کے دوران لیہ نے جس ہمت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، اس نے سب کو دنگ کر دیا۔
حملے کے ہولناک لمحات کو یاد کرتے ہوئے لیہ اسٹیورٹ کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ بالکل ایسا تھا جیسے کوئی شخص کسی دیوہیکل ڈائنوسار کے ساتھ لڑائی میں الجھ گیا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ شارک نے جب ان پر وار کیا تو وہ گھبرانے کے بجائے فوری طور پر دفاعی پوزیشن میں آئیں اور اپنی بقا کی جنگ لڑی۔ اس نازک ترین لمحے میں لیہ نے اپنی پوری طاقت جمع کر کے شارک کو مکا رسید کیا، جس کی وجہ سے بحری درندہ کچھ لمحوں کے لیے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا اور انہیں اپنی جان بچانے کا موقع مل گیا۔
اس واقعے کے بعد لیہ اسٹیورٹ کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے زخموں کا علاج کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق شارک کے حملے میں اس قدر ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا اور جوابی حملہ کرنا انتہائی ناممکن سمجھا جاتا ہے، مگر لیہ کی حاضر دماغی نے ان کی جان بچا لی۔ سڈنی کے ساحلوں پر اس واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات اور الرٹ کے نظام کا بھی از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تیراکوں کی حفاظت کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔