World
عالمی کورل ریف کور میں کمی اور سمندری حیات کے خطرات پر نئی رپورٹ
نئی رپورٹ کے مطابق سمندری مونگا چٹانیں انتہائی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے ختم ہونے سے سمندری حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ چٹانیں دنیا بھر کے سمندروں کا صرف ایک فیصد حصہ ہیں لیکن تمام سمندری حیات کا ایک چوتھائی حصہ یہاں پایا جاتا ہے۔
ماہرین ماحولیات اور سائنسدانوں کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر کورل ریف یعنی مونگا چٹانوں کا کور خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے اور اس میں ناقابل تلافی زوال کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یہ رپورٹ سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں سمندروں کی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کے سمندروں میں کورل ریف کا رقبہ مجموعی سمندری رقبے کا صرف ایک فیصد بنتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ محدود علاقے سمندر کی تمام حیات کا ایک چوتھائی حصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ یہاں مچھلیوں، پودوں اور دیگر سمندری جانداروں کی لاتعداد اقسام پنپتی ہیں جو اس ماحولیاتی نظام پر براہ راست انحصار کرتی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کورل ریف کے خاتمے سے نہ صرف خوبصورت سمندری مناظر اور چٹانیں تباہ ہوں گی بلکہ سمندری غذایی زنجیر بھی بُری طرح متاثر ہوگی۔ اس صورتحال سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے روزگار اور غذایی سیکیورٹی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ سمندری وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ گلوبل وارمنگ، سمندروں کے درجہ حرارت میں اضافہ اور آلودگی وہ بنیادی عوامل ہیں جو کورل ریف کو تباہ کر رہے ہیں۔ حکومتوں اور ماحولیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ ان چٹانوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کریں۔