LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ، اردن میں اہداف نشانہ

News Image
امریکہ نے ایک ماہ کے تعطل کے بعد ایران کے جزیرے لارک پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے اردن میں موجود عسکری اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکہ نے ایک ماہ کے طویل وقفے کے بعد ایران کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے خلیج میں واقع ایرانی جزیرے لارک پر فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بنے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تناؤ پایا جاتا ہے۔ امریکی عسکری ذرائع کے مطابق ان حملوں کا مقصد مخصوص عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا تاکہ ممکنہ خطرات کا سدباب کیا جا سکے، تاہم اس کارروائی کے نتیجے میں خطے میں ایک بار پھر عسکری محاذ آرائی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس امریکی کارروائی کے فورا بعد ایران کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن کی حدود میں واقع بعض عسکری اڈوں کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اردن میں ان اہداف کو نشانہ بنانا اس بات کا غماز ہے کہ ایران اب اس تنازع کو خطے کے دوسرے ممالک تک پھیلانے سے گریز نہیں کر رہا اور امریکی اتحادیوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اردنی حکام اور اتحادی افواج کی جانب سے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور دفاعی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص خطے کے دیگر ممالک اس تازہ کشیدگی پر انتہائی پریشان نظر آتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، کیونکہ حالیہ حملے اس نازک خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا رہے ہیں۔