LIVE
Loading Breaking News...

نائیجر میں فوجی بغاوت، روس کے کردار اور ساحل کی صورتحال

News Image
نائیجر کے دارالحکومت نیامی میں فوج کی جانب سے بغاوت کی ناکام کوشش نے ملکی عسکری صفوں کے اندر موجود شدید تناؤ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں روس کے افریقہ کورپس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سیکیورٹی کردار کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
نائیجر کے دارالحکومت نیامی میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والی فوجی بغاوت کی ناکام کوشش نے نہ صرف ملکی سیاسی اور عسکری منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اس سے افریقہ کے حساس ساحل کے خطے میں طاقت کے توازن پر بھی گہرے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ نیامی میں ہونے والی اس بغاوت نے نائیجر کی فوج کے اندر موجود اندرونی کشیدگی اور اختلافات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے، جو پہلے پردے کے پیچھے موجود تھے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ملک کی موجودہ فوجی قیادت کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج ثابت ہوا ہے۔ اس پوری صورتحال میں سب سے اہم پہلو روسی فورسز بالخصوص افریقہ کورپس کا کردار ہے، جو ملک میں اندرونی انتشار کو دبانے اور حکومت کو مستحکم رکھنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ روسی عسکری موجودگی، جو حالیہ مہووں میں مغربی ممالک کے اثر و رسوخ کو زائل کرنے کے لیے تیزی سے پھیلی ہے، اب ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ اس ناکام بغاوت کو کچلنے میں روسی حمایت یافتہ عناصر اور افریقہ کورپس کی کارروائیوں نے کلیدی کردار ادا کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نائیجر کی موجودہ انتظامیہ اپنی بقا کے لیے ماسکو پر کس قدر انحصار کر رہی ہے۔ تاہم، اس واقعے نے خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے طویل مدتی خدکات کو بھی جنم دیا ہے۔ مغربی افریقہ کا ساحل کا خطہ طویل عرصے سے دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور بیرونی مداخلت کا شکار رہا ہے۔ نائیجر میں اس قسم کی اندرونی بغاوتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فوجی حکومتیں اندرونی طور پر کتنی غیر مستحکم ہو سکتی ہیں، چاہے انہیں کتنی ہی طاقتور بیرونی عسکری مدد حاصل کیوں نہ ہو۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ روس فی الحال صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے، لیکن طویل مدت میں نائیجر کے اندرونی حالات کو سنبھالنا ماسکو کے لیے ایک مشکل اور پیچیدہ چیلنج بنا رہے گا۔