World
اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی آباد کاروں کو ہتھیاروں کی فراہمی
مقبوضہ علاقوں میں آباد کاروں کے حملے ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد اسرائیلی حکومت نے شہریوں میں ایک لاکھ سے زائد خودکار رائفلیں تقسیم کر دی ہیں۔ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی اور تشدد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے پرتشدد حملے ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اس نازک صورتحال کے دوران اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی متنازعہ قدم اٹھایا گیا ہے جس کے تحت اب تک ایک لاکھ سے زائد جدید خودکار رائفلیں اور دیگر جنگی ساز و سامان غیر قانونی طور پر مقیم اسرائیلی آباد کاروں میں تقسیم کیا جا چکا ہے۔ اس اقدام کو اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس سے خطے میں پہلے سے موجود تنازعہ اور زیادہ خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ آباد کاروں کو اس طرح کھلے عام اور سرکاری سطح پر مسلح کرنے کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں کی فراہمی سے فلسطینی آبادی کے خلاف تشدد کے واقعات میں مزید تیزی آئے گی اور پہلے سے کشیدہ امن و امان کی صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی۔ دوسری جانب، اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدامات مبینہ دفاعی ضروریات کے تحت اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ اندرونی سکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکے، تاہم ناقدین اس جواز کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے تاکہ خطے میں مزید خون خرابے سے بچا جا سکے۔