World
تیونس میں شدید گرمی، بجلی اور پانی کا نظام درہم برہم
تیونس میں پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچنے والے شدید درجہ حرارت نے بجلی کی طلب میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔ اس گرمی کی لہر کے باعث ملک بھر میں پانی کی فراہمی اور طبی خدمات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
تیونس میں موسم کی شدت انتها کو چھو رہی ہے جہاں درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس بدترین گرمی کی لہر کی وجہ سے ملک کے نظامِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شدید گرم موسم کے باعث ملک میں بجلی کی طلب ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ سے ترسیلی نظام پر غیر معمولی بوجھ پڑا ہے۔ بجلی کی اس گھنٹوں طویل کلاوت اور بلاتعطل فراہمی میں تعطل کی وجہ سے متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام بھی درہم برہم ہو چکے ہیں۔ شہری علاقوں میں پانی کے بغیر گزارا کرنا محال ہوتا جا رہا ہے اور لوگ حکومتی اقدامات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس کساہل کن گرمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے صحت کے شعبے کو بھی شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے شکار مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ طبی عملہ اس دباؤ سے نمٹنے کے لیے تندہی سے کوشاں ہے۔ متعلقہ حکام نے شہریوں کو محتاط رہنے اور بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے، تاہم توانائی کے اس بحران پر فوری قابو پانا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔