LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا اردن اور یو اے ای میں امریکی اڈوں پر بڑا حملہ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر

News Image
امریکہ کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس تازہ کشیدگی سے خطے میں جاری جنگ میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے جس کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔
تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی میں ایک بار پھر شدید کشیدگی اس وقت دیکھنے میں آئی جب ایران نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب لارک جزیرے پر کیے گئے پہلے حملے کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے اتحادی ملک اردن میں دو امریکی فوجی ایئر بیسز کو طاقتور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دوسری جانب اردن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے آٹھ میزائلوں کو کامیابی کے ساتھ ناکارہ بنایا ہے۔ یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکی سینٹکام نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے ایک چھوٹے جزیرے لارک پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائی ایرانی افواج کو آبنائے میں مزید سمندری بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے کی گئی تھی، کیونکہ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کا یہ راستہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حملے کے بعد ایرانی وزارت خارجہ اور پاسداران انقلاب نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اردن میں موجود امریکی اڈے لارک جزیرے پر حملے کے لیے استعمال ہوئے تھے، اس لیے تہران کا یہ جوابی وار بالکل جائز اور ناگزیر تھا۔ ایک الگ بیان میں ایرانی سرکاری ٹی وی نے تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جہاں امریکی افواج اور ہیلی کاپٹرز تعینات تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اس طویل جنگ کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور مبصرین کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں بھی جاری تھیں۔ اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے عسکری کارروائیوں کے بجائے ایران پر معاشی پابندیوں کو سخت کرنے کی حکمت عملی اپنا رکھی تھی۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ ایران کے خلاف اقتصادی محاصرے اور بینکوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی ثانوی پابندیاں ہر ہفتے عائد کی جائیں گی۔ اس تازہ عسکری تصادم کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت نوے ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ دنیا بھر کے معاشی ماہرین اور سفارتی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو مشرق وسطیٰ کا امن مزید خطرے میں پڑ جائے گا اور اس جنگ کے اثرات پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔