Health
مصطفیٰ کمال کی سرکاری ہسپتالوں میں مستقل ملازمتیں ختم کرنے کی تجویز
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سرکاری ہسپتالوں میں تمام عملے کو کنٹریکٹ پر رکھنے اور نجی شعبے سے سی ای او لانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے پمز ہسپتال کے دورے اور حالیہ آتشزدگی کے واقعے کے تناظر میں یہ اہم تبصرے کیے۔
اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سرکاری ہسپتالوں کے نظام پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے تجویز دی کہ سرکاری ہسپتالوں میں کسی قسم کا مستقل سرکاری ملازم نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام بھرتیاں کنٹریکٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے بہتر نظم و نسق کے لیے نجی شعبے سے ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو لایا جانا چاہیے۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ مستقل ملازمین محکمہ جاتی امور میں بہت زیادہ بااختیار ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں برطرف کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ محکموں کو عدالتی کارروائیوں میں الجھا دیتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اصلاحات ملکی صحت کے نظام میں موجود خرابیوں کا واحد مستقل حل ہیں۔ مصطفیٰ کمال کے مطابق جو ملازم بہتر کارکردگی دکھائے گا وہ نوکری میں رہے گا جبکہ باقیوں کو فارغ کر دیا جانا چاہیے۔ نجی شعبے سے آنے والے سی ای او کے پاس بھرتی اور برطرفی کے مکمل اختیارات ہونے چاہئیں، جو سالانہ بجٹ منظور کروا کے ہسپتال کے معاملات چلانے اور احتساب کے ذمہ دار ہوں۔ پمز کے حالیہ واقعے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر صحت نے بتایا کہ انکوائری رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ پہلے چنگاری سے لے کر مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں آگ پھیلنے تک محض دو منٹ کا وقت لگا۔ نرسنگ ہوسٹل میں پیش آنے والے پچھلے واقعے پر انہوں نے کہا کہ اس کی رپورٹ بروقت وزارت تک نہیں پہنچی تھی، تاہم اب نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) ڈاکٹر محمد سلمان نے عہدہ سنبھال لیا ہے اور مریضوں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔