World
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، اردن اور یو اے ای پر حملے
امریکہ کی جانب سے جزیرہ لارک پر بمباری کے بعد ایران نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے کے تعطل کے بعد ایک بار پھر براہ راست عسکری تصادم شروع ہو گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب امریکی افواج نے جزیرہ لارک پر بمباری کی اور اس کے جواب میں ایرانی فورسز نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران یہ پہلا بڑا عسکری تصادم ہے جس نے خطے میں امن کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے اور تیل کی سپلائی کے اہم ترین بحری اور زمینی راستوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے نسبتاً سکون پایا جاتا تھا جو اب اچانک ہونے والے ان حملوں کے بعد ٹوٹ چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تازہ ترین کشیدگی مشرق وسطیٰ کو ایک نئی اور وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت اور توانائی کے ذخائر کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے تیل کے اسٹریٹجک حب کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو کسی بڑے انسانی اور معاشی بحران سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق انتہائی تشویشناک بنے ہوئے ہیں اور دونوں جانب سے مزید کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔