LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور مسلم ممالک کا نیا دفاعی معاہدہ، استنبول میں اہم اجلاس

News Image
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اہم اجلاس پیر کے روز استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دفاعی تعاون میں مزید اسلامی ممالک کی شمولیت کے لیے گہری دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے کے بعد کئی دیگر مسلم ممالک نے بھی اس اتحاد میں شمولیت میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس تاریخی دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے لیے دونوںممالک کے عزم کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے اور اس کے خطے کی سکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا باضابطہ اجلاس آج (پیر کے روز) ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں تینوں برادر ممالک کے عسکری اور دفاعی حکام شرکت کریں گے جہاں مشترکہ دفاع، عسکری تربیت اور خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاشار گلیر اور پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کے درمیان حال ہی میں ایک اہم ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے امور زیرِ غور آئے۔ اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی رابطے اس بات کا غماز ہیں کہ اسلامی ممالک دفاعی خود کفالت اور باہمی تعاون کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ میں مزید مسلم ممالک شامل ہوتے ہیں تو اس سے مسلم دنیا کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس اتحاد کا مقصد کسی کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی سلامتی کو فروغ دینا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں مسلم امہ کے درمیان دفاعی اور معاشی روابط مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔