LIVE
Loading Breaking News...

سندھ میں نئے صوبوں کی بحث: پیپلز پارٹی کا مؤقف اور سیاسی ردعمل

News Image
سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات پر سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس طرح کے تمام مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے صوبے کی وحدت کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
سندھ اسمبلی کے اندر اور باہر نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف سیاسی حلقوں اور جماعتوں کی جانب سے صوبے کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس بنانے کے مطالبات سامنے آئے ہیں، جن پر صوبے کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے انتہائی سخت اور واضح ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک کو پہلے ہی متعدد اقتصادی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، اس قسم کے متنازع مطالبات صوبے میں نسلی اور لسانی بنیادوں پر تفریق کو ہوا دینے کے مترادف ہیں اور پارٹی ہرگز اس طرح کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر اور دیگر سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوامی سطح پر ایک بڑا طبقہ انتظامی بہتری اور ترقی کے لیے چھوٹے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے رکھتا ہے۔ ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ بڑے انتظامی یونٹس کی وجہ سے نچلی سطح پر عوام کے مسائل بروقت حل نہیں ہو پاتے، اس لیے بہتر گورننس اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نئے یونٹس پر سنجیدگی سے غور کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم ناقدین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس وقت اس قسم کے مطالبات اٹھانے کا مقصد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا محض توجہ حاصل کرنا ہو سکتا ہے، کیونکہ اس بحث کا وقت انتہائی حساس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو محتاط رویہ اپنانا چاہیے تاکہ قومی یکجہتی اور صوبائی ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچے۔ سندھ اسمبلی کے آئندہ اجلاسوں میں اس معاملے پر مزید ہنگامہ آرائی اور گرما گرم بحث متوقع ہے کیونکہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اس موضوع پر خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔