World
نیپال سیلاب تباہی: 900 ہلاکتیں اور 4 ہزار سے زائد افراد لاپتہ
نیپال میں آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 900 سے زائد ہو گئی ہے جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 4,247 تک پہنچ گئی ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہائیڈرو پاور ٹنلز میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جہاں حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب اور طوفانی بارشوں کے باعث لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 4,247 تک پہنچ چکی ہے، جس سے ملک بھر میں امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے ان سیلابوں نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔
امدادی کارروائیوں میں مصروف ریسکیو ٹیموں کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہائیڈرو پاور ٹنلز میں پھنسے سینکڑوں افراد کو بحفاظت نکالنا درپیش ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 900 افراد کے ان ٹنلز میں پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو اندر جانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان افراد تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔
دوسری جانب، اس قدرتی آفت سے متاثرہ علاقوں میں خوراک، پینے کے صاف پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ہزاروں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بروقت طبی امداد نہ پہنچی تو وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ نیپالی حکومت اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں متاثرین کی فوری بحالی اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں تاکہ اس بڑے انسانی المیے سے نمٹا جا سکے۔