World
ایس سی او سمٹ: شی جن پنگ، نریندر مودی اور پیوٹن کی ملاقات کا ایجنڈا
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آئندہ سربراہی اجلاس میں روس، چین اور بھارت کے سربراہان سمیت کئی اہم رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ اس اجلاس میں علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
کرغزستان میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آئندہ سربراہی اجلاس میں عالمی سطح پر بڑی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ اس اہم ترین اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے رہنما ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہوں گے۔ سفارتی حلقوں میں اس ملاقات کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ عالمی سیاست اور خطے کے توازن میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اجلاس کے باضابطہ ایجنڈے میں علاقائی سلامتی، باہمی تجارت، اور اقتصادی تعاون کے فروغ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، حالیہ علاقائی چیلنجز اور بالخصوص افغانستان کی موجودہ سیاسی و انسانی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا۔ بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان افغانستان کے تناظر میں ہونے والی بات چیت اس سربراہی اجلاس کا ایک اہم ترین اور فیصلہ کن باب ثابت ہوگی، جس کا مقصد خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔
روس، چین، بھارت اور ایران جیسے اہم ممالک کے سرکردہ رہنماؤں کا ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا عالمی سفارت کاری میں ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کے دوران دو طرفہ ملاقاتوں کے امکانات بھی روشن ہیں جن میں باہمی تعلقات اور تجارتی معاہدوں کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا جائے گا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کرغزستان میں ہونے والا یہ اجلاس عالمی اور علاقائی سطح پر تعاون کے نئے دروازے وا کرے گا۔