LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور شعبہ صحت: اے آئی کمپنیاں عوامی دباؤ سے نمٹنے کے لیے تیار

News Image
مصنوعی ذہانت بنانے والی بڑی کمپنیاں عوامی تنقید اور دباؤ کو کم کرنے کے لیے صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی پر زور دے رہی ہیں۔ انتروپک کے سی ای او ڈاریو امودی کا ماننا ہے کہ اے آئی کی مدد سے ایک دہائی میں زیادہ تر بیماریوں کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیاری اور فروغ میں مصروف دنیا کی بڑی تکنیکی کمپنیاں اب عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کا مقابلہ کرنے کے لیے شعبہ صحت کا رخ کر رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ اے آئی کے ممکنہ منفی اثرات اور روزگار کے مواقع پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے عامتہ الناس میں خدشات بڑھ رہے ہیں، جنہیں زائل کرنے کے لیے ان کمپنیوں نے بائیو میڈیسن اور صحت کے شعبے میں اپنی خدمات کو نمایاں کرنا شروع کر دیا ہے۔ پولی مارکیٹ کے صارفین کے لیے بھی اے آئی پر مبنی بائیو میڈیسن ایک انتہائی اہم اور اثر انگیز موضوع کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس حکمت عملی سے نہ صرف تکنیکی کمپنیوں کا عوامی تشخص بہتر ہوگا بلکہ اے آئی کو انسانیت کے مفاد میں پیش کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ دوسری جانب، انتروپک (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو امودی نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بدولت آئندہ ایک دہائی کے اندر اندر دنیا سے زیادہ تر بیماریوں کا خاتمہ یا ان کا موثر علاج ممکن ہو جائے گا۔ ان کے اس بیان نے طبی اور سائنسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے اور دنیا بھر کی توجہ اس بات پر مبذول کروائی ہے کہ کس طرح جدید الگورتھمز اور مشین لرننگ انسانی زندگیوں کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اے آئی کمپنیاں عام انسانوں کی زندگیوں میں براہ راست مثبت تبدیلیاں نہیں لائیں گی، اس وقت تک عوامی سطح پر پایا جانے والا شکوک و شبہات کا ماحول ختم نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب بڑی کارپوریشنز اپنی توجہ تفریح یا روایتی سافٹ ویئر کے بجائے صحت اور ادویات کی تیاری کے شعبوں پر مرکوز کر رہی ہیں۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا اے آئی کی یہ طبی کامیابیاں واقعی عوام کے تحفظات کو دور کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔