World
براڈ پیک ایవలینچ حادثہ: ریسکیو آپریشن معطل، تین لاشیں برآمد
برفانی تودے گرنے کے بعد براڈ پیک پر لاپتہ ہونے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کی تلاش کا آپریشن خراب موسم کے باعث عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امریکہ، نیپال اور عمان سے تعلق رکھنے والے تین کوہ پیماؤں کی لاشیں سکردو منتقل کر دی گئی ہیں۔
گلگت بلتستان کے مشہور پہاڑ براڈ پیک پر پیش آنے والے برفانی تودے (ایవలینچ) کے حادثے کے بعد لاپتہ ہونے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کی تلاش کا سرچ اور ریسکیو آپریشن جمعہ کی دیر شام شدید اور خراب موسمی حالات کی وجہ سے عارضی طور پر معطل کرنا پڑا ہے۔ اس المناک حادثے کے بعد پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز کی مدد سے تین کوہ پیماؤں کی لاشیں براڈ پیک سے سکردو منتقل کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق برآمد ہونے والی لاشوں میں امریکہ، نیپال اور عمان سے تعلق رکھنے والے ایک ایک کوہ پیما شامل ہیں، جن کی شناخت نیپال کے پور بہادر گرنگ، عمان کی نذیرہ احمد عبداللہ الحارثی اور امریکہ کی میلار ی گیز کے طور پر کی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں چار لاشیں ملنے کا کہا گیا تھا لیکن بعد میں اعداد و شمار کو درست کرتے ہوئے تعداد تین کر دی گئی جبکہ دیگر سات کوہ پیما تاحال لاپتہ ہیں۔ کمشنر بلتستان ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ٹور آپریٹرز کی باضابطہ درخواست پر یہ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ نامور کوہ پیما سرباز خان کی سربراہی میں تین رکنی سول ریسکیو ٹیم کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے براہ راست براڈ پیک بیس کیمپ پہنچایا گیا تھا۔ ریسکیو ٹیم کے مطابق ڈرون فوٹیج سے مزید کوہ پیماؤں کی موجودگی کے آثار بھی ملے ہیں اور انتہائی مشکل ترین اور اونچے پہاڑی خطے کے باوجود پاک فوج، مقامی ماہر کوہ پیماؤں اور ریسکیو ٹیموں کا تعاون جاری ہے۔ گلگت بلتستان حکومت نے ہلاک ہونے والے کوہ پیماؤں کے لواحقین سے دُکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ ریسکیو آپریشن اور لاشوں کو ان کے آبائی ممالک تک پہنچانے میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاپتہ کوہ پیماؤں کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کے سینئر نائب صدر کرار حیدری نے بتایا تھا کہ اس دس رکنی مہم جو ٹیم میں چھ نیپالی، ایک پاکستانی، ایک عمانی، ایک امریکی اور ایک چینی کوہ پیما شامل تھا۔ اے سی پی کے جنرل سکریٹری ایاز شگری نے بتایا کہ جی پی ایس لوکیشنز سے معلوم ہوا ہے کہ ایవలینچ کی وجہ سے یہ گروپ تقریباً ایک ہزار میٹر نیچے جا گرا تھا۔ دریں اثنا، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈوکیٹ اور وزیر سیاحت نائیکنام کریم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کریں اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسم بہتر ہوتے ہی ہفتے کے روز امدادی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کیا جائے گا۔