LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں قیدیوں کی قبل از وقت رہائی، کنزرویٹوز کی شدید تنقید

News Image
برطانوی وزیراعظم کی جانب سے جیلوں کی گنجائش بڑھانے کے لیے نامقررہ مدت کی سزائیں کاٹنے والے قیدیوں کو رہا کرنے کے بیان پر سیاسی گرما گرمی شروع ہو گئی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے خطرناک مجرم بھی معاشرے میں واپس آ سکتے ہیں۔
برطانوی سیاست میں اس وقت ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا جب قدامت پسند جماعت کنزرویٹو پارٹی نے حکومت کی جانب سے قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کی اسکیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اس حکومتی فیصلے کے نتیجے میں معاشرے کے لیے خطرناک اور سنگین جرائم میں ملوث مجرم بھی کھلی ہوا میں سانس لے سکتے ہیں، جس سے عوامی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ وارننگ اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان دیا گیا کہ ملک بھر کی جیلوں میں گنجائش ختم ہو چکی ہے اور قیدیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے لازمی ہے کہ کچھ ایسے قیدیوں کو رہا کیا جائے جو نامقررہ مدت کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جیلوں کا نظام بیٹھنے سے بچانے کے لیے یہ ایک ناگزیر قدم ہے تاکہ نئے مجرموں کو رکھنے کی جگہ بنائی جا سکے۔ تاہم، حزب اختلاف کی کنزرویٹو پارٹی نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوامی تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نرمی سے مجرموں کے حوصلے بلند ہوں گے اور قانون کی حکمرانی کو زک پہنچے گی، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے بھی یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، جیلوں میں جگہ کی کمی کا مسئلہ طویل عرصے سے برطانوی حکام کے لیے درد سر بنا ہوا ہے، لیکن اس کا حل ایسے اقدامات کو بنانا نہیں ہونا چاہیے جو عام شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن جائیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر شدید بحث متوقع ہے کیونکہ اپوزیشن اس مسئلے کو حکومت کے خلاف ایک بڑے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔