LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم شہباز شریف کا غزہ امن معاہدے اور تخفیف اسلحہ پر ردعمل

News Image
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غزہ امن منصوبے کے تحت تخفیف اسلحہ کے عمل میں ہونے والی پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کی کوششوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں غزہ امن منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کی پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے جس کا مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام اور عسکری سرگرمیوں کا خاتمہ ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ قاہرہ میں حماس رہنماؤں اور ثالثوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں غزہ میں مرحلہ وار تخفیف اسلحہ کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، اگرچہ اس حوالے سے حماس کے ایک عہدیدار نے اسے ایک مسودہ قرار دیا جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی کچھ تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان بورڈ آف پیس کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے ثالثی کا کٹھن فریضہ سرانجام دینے والے ممالک بالخصوص ریاستہائے متحدہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے لیے خصوصی تعریف کا اظہار کیا جن کی محنت سے یہ اہم پیشرفت ممکن ہو سکی۔ وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شجاعانہ قیادت کی بھی تعریف کی اور اسے بورڈ آف پیس کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان پیش رفتوں کے بعد غزہ امن منصوبے کے تحت تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حق خودارضیت کے حصول کا ذریعہ بنیں گی، جو کہ ایک قابل اعتبار اور وقت کے پابند سیاسی عمل کے ذریعے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا نتیجہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کی صورت میں نکلنا چاہیے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ واضح رہے کہ پاکستان ان چودہ ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اس سال جنوری میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کیے تھے اور وہ اس ادارے کے بانی اراکین میں شمار ہوتا ہے۔ اس بورڈ کا بنیادی مقصد غزہ میں جنگ بندی اور تعمیر نو کی نگرانی کرنا تھا، تاہم اس کے دائرہ کار کو وسعت دے کر دنیا بھر میں تنازعات سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں امن سازی کا فریضہ بھی سونپا گیا ہے۔