LIVE
Loading Breaking News...

مونیز چرچ کی رہنما کو رشوت کے مقدمے میں دو سال قید

News Image
کوریا کی ایک عدالت نے مونیز چرچ کی رہنما ہان ہاک جا کو سابق خاتون اول کو مہنگے تحائف دینے کے جرم میں دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ثابت کیا کہ انہوں نے اثر و رسوخ کے لیے شینیل کے تھیلے اور ہیرے کا ہار رشوت کے طور پر دیا۔
جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے ملک کے متنازعہ مذہبی ادارے 'مونیز چرچ' کی 83 سالہ رہنما ہان ہاک جا کو کرپشن اور رشوت ستانی کے الزامات ثابت ہونے پر دو سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور سیاسی اثر و رسوخ کے لیے ملک کی سابق خاتون اول کو قیمتی تحائف سے نوازا تھا تاکہ انتظامیہ اور حکومتی سطح پر اپنے معاملات کو آسان بنایا جا سکے۔ عدالتی دستاویزات اور تفصیلی فیصلے کے مطابق، ہان ہاک جا نے جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو معروف برانڈ شینیل کے دو قیمتی ہینڈ بیگ اور ایک انتہائی بیش قیمت ہیرے کا ہار رشوت کے طور پر پیش کیا تھا۔ عدالت نے اس عمل کو قانون کی سنگین خلاف ورزی اور سرکاری عہدوں کے غلط استعمال کے مترادف قرار دیا ہے۔ جج نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی شخص بالاتر نہیں ہے، چاہے وہ کتنا ہی اثر و رسوخ رکھنے والا مذہبی رہنما ہی کیوں نہ ہو۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد میں ان تحائف کی خریداری اور ان کی ترسیل کے تمام ریکارڈز عدالت میں جمع کروائے گئے تھے، جنہیں دفاعی ٹیم تردید کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت نے تمام حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہان ہاک جا کو مجرم قرار دیا اور انہیں دو سال قید بامشقت کی سزا کا حکم سنا دیا۔ اس عدالتی فیصلے کو جنوبی کوریا میں احتساب اور بدعنوانی کے خلاف ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مونیز چرچ کے اندر بھی شدید ہلچل مچ گئی ہے اور عالمی سطح پر اس مذہبی تحریک کے پیروکاروں کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے نہ صرف چرچ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے بلکہ جنوبی کوریا کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں بھی ہلچل پیدا ہو گئی ہے جہاں طاقتور شخصیات کے خلاف اس نوعیت کے سخت عدالتی فیصلے کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ انتظامیہ نے اس کیس کے تمام پہلوؤں پر مزید تحقیقات کا عندیہ بھی دیا ہے۔