Business
کاروباری تنظیموں کی جان سُوینی کے فوڈ پرائس کیپ پلان کی مخالفت
بیس سے زائد کاروباری تنظیموں نے ایک مشترکہ خط کے ذریعے جان سُوینی کو خوراک اور مشروبات کی قیمتوں پر قانونی کیپ کا منصوبہ ترک کرنے کی تاکید کی ہے۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کا حکومتی اقدام معیشت اور سپلائی چین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسکاٹ لینڈ کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں بیس سے زائد سرکردہ کاروباری تنظیموں نے مشترکہ طور پر فرسٹ منسٹر جان سُوینی کو ایک خط ارسال کیا ہے۔ اس خط میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خوراک اور مشروبات کی قیمتوں پر قانونی حد مقرر کرنے (پرائس کیپ) کے متنازع اور غیر مؤثر منصوبے کو فوری طور پر ترک کر دے۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حکومتی اقدامات مارکیٹ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور اس سے مثبت معاشی فوائد حاصل کرنے کے بجائے الٹا مسائل میں اضافہ ہو گا۔
خط میں دستخط کرنے والی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی قیمتوں کی حد بندی سے خوردہ فروشوں اور سپلائرز کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔ اس سے نہ صرف مارکیٹ میں اشیا کی فراہمی کا نظام ابتر ہو سکتا ہے بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے زندہ رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ کاروباری نمائندوں نے واضح کیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اس قسم کے مصنوعی طریقے ماضی میں بھی ناکام رہے ہیں اور اس سے صارفین کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملے گا۔
حکومتی حلقوں کی طرف سے اس خط پر غور و خوض کا عندیہ دیا گیا ہے تاہم اب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جان سُوینی کی حکومت کو معاشی ترقی کے لیے کاروباری برادری کے خدامات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ایسے پالیسی فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جو سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچائیں۔ معاشی ماہرین نے بھی ان خدشات کی تائید کی ہے اور مشورہ دیا ہے کہ حکومت کو قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کی بجائے مارکیٹ کے رقابتی ماحول کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
آئندہ دنوں میں اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بھی بحث متوقع ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں اور کاروباری نمائندے حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے کہ وہ اس منصوبے کو باضابطہ طور پر ختم کرے۔ کاروباری برادری نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معیشت کے مفاد میں اس متنازع منصوبے کو واپس لے گی تاکہ تجارتی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکیں اور مارکیٹ میں استحکام قائم ہو۔