LIVE
Loading Breaking News...

ایران جنگ نہیں چاہتا: صدر مسعود پزشکیان کا بیان

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران خطے میں جنگ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ بیان لارک جزیرے پر امریکی حملے اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران خطے میں کسی قسم کی جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔ یہ بیان لارک جزیرے پر امریکی حملے اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن کشیدگی میں مزید اضافہ دونوں فریقین کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی حلقوں اور عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق خطے میں کشیدگی کی نئی لہر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سابق امریکی صدر اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی ایران کے خلاف سخت بیانات دیے گئے ہیں جن میں کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں فوجی جھڑپوں اور بیانات کی جنگ میں تیزی آئی ہے، جس سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں زور دیا کہ مسائل کا حل جنگ یا محاذ آرائی میں نہیں بلکہ بات چیت اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے علاقائی ہم واری اور اندرونی اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ملکی چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فریقین کی جانب سے اگر تحمل کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ تنازعہ مزید پھیل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی مرتب ہوں گے۔