LIVE
Loading Breaking News...

بلاول بھٹو کا آسٹرین شہزادی سے شادی کی افواہوں پر ردعمل

News Image
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آسٹرین شہزادی سے منگنی اور شادی کی تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کو ایک منظم تماشا قرار دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ان تمام میڈیا رپورٹس اور افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وہ کسی آسٹرین شہزادی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور کچھ روایتی خبر رساں اداروں میں اس قسم کی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کا حالیہ دورہ یورپ دراصل ایک آسٹرین خاندان کے ساتھ منگنی اور شادی کی بات چیت کا حصہ ہے۔ یہ خبریں سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئیں اور مختلف میمز اور تبصروں کا ایک طوفان امڈ آیا۔ ان تمام افواہوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ان کی شادی سے متعلق پھیلائی جانے والی باتیں حقیقت سے کوسوں دور ہیں اور ان میں ذرا برابر بھی صداقت نہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے ان بے بنیاد خبروں کو محض سوشل میڈیا کا ایک تماشا قرار دیا جس کا مقصد غیر ضروری توجہ حاصل کرنا اور عوام میں افواہیں پھیلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بے سروپا کہانیوں میں کوئی سچائی نہیں ہے اور میڈیا کو ایسی من گھڑت خبریں چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل کچھ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے دورہ ویانا کا مقصد مبینہ طور پر ایک آسٹرین شہزادی کے ساتھ رشتہ طے کرنا ہے۔ ان رپورٹوں کے منظر عام پر آنے کے بعد انٹرنیٹ پر بحث چھڑ گئی تھی اور عوام کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ تاہم، اب بلاول بھٹو کی جانب سے واضح تردید کے بعد ان تمام قیاس آرائیوں کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کی ذاتی زندگی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اس طرح کی افواہیں پھیلانا اب ایک معمول بن چکا ہے، جس پر اکثر شخصیات کو خود آکر وضاحت دینا پڑتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے اس دوٹوک بیان کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ اس بے بنیاد موضوع پر اب مزید غیر ضروری بحث کا سلسلہ بند ہو جائے گا اور توجہ ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مرکوز رہے گی۔