Technology
عالمی مالیاتی نظام کے لیے مصنوعی ذہانت کا خطرہ، نگران ادارے کی رپورٹ
عالمی مالیاتی نگران اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال اور ممکنہ ببل عالمی معیشت اور مالیاتی استحکام کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ جی ٹوئنٹی ممالک کے رہنماؤں کو بھی اس حوالے سے باضابطہ خط ارسال کر دیا گیا ہے۔
عالمی مالیاتی نظام کے نگران اداروں اور مرکزی بینکوں نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید ٹیکنالوجی کا بے لگام استعمال دنیا بھر کے مالیاتی نظام کے لیے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ فنانشل سٹیبلٹی بورڈ (FSB) کے حالیہ بیانات اور جی ٹوئنٹی کے وزراء خزانہ اور مرکزی بینکوں کے صدور کو لکھے گئے خط میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اے آئی پر مبنی سبر سیکیورٹی کے خطرات عالمی مالیاتی استحکام کو تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ بینک آف انگلینڈ کے گورنر نے بھی اس ضمن میں سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا موجودہ ببل یا رجحان اگر مناسب طریقے سے کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑی عالمی معاشی مندی یا گراوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مالیاتی اداروں میں اے آئی کا اندھا دھند استعمال سسٹمک رسک میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جہاں ایک چھوٹی سی تکنیکی خرابی پوری دنیا کی مارکیٹوں کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب بین الاقوامی سطح پر ریگولیٹری فریم ورک بنانے اور سخت ضابطہ اخلاق نافذ کرنے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرتے ہوئے اس کے ممکنہ نقصانات اور اقتصادی بحران سے بچا جا سکے۔