Business
وال سٹریٹ میں گراوٹ، تیل مہنگا اور فیڈ پالیسی کا دباؤ
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد اضافے کے باعث وال سٹریٹ کے شیئرز میں مندی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنے کے خدشات نے اسٹاک مارکیٹ پر اضافی دباؤ ڈالا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں منگل کے روز ملا جلا رجحان دیکھا گیا جبکہ وال سٹریٹ کے بڑے انڈیکسز میں معمولی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے براہ راست عالمی معیشت اور اسٹاک مارکیٹس کو متاثر کیا۔ توانائی کے شعبے میں اس طلاطم کے بعد سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور رسک فیکٹرز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مہنگائی کے دباؤ اور مضبوط جابز ڈیٹا کے پیش نظر فیڈرل ریزرو شرح سود کے حوالے سے سخت موقف اختیار کر سکتا ہے۔ اس قسم کی ہاکش (Hawkish) توقعات کی وجہ سے بانڈ مارکیٹس میں بھی فروخت کا دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے اثرات براہ راست سکیورٹیز اور ایکویٹی مارکیٹ پر مرتب ہو رہے ہیں۔
اس تمام تر صورتحال کے باوجود، مجموعی طور پر وال سٹریٹ کے لیے یہ مہینہ ایک بہترین ماہ کے طور پر اختتام پذیر ہو رہا ہے، لیکن حالیہ سیشنز میں ہونے والی فروخت نے سرمایہ کاروں کی خوشیوں کو محدود کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور امریکی اقتصادی اعداد و شمار ہی مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔ سرمایہ کار بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے پورٹ فولیو کی تشکیل نو کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے مارکیٹ جھٹکے سے بچا جا سکے۔