LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور عالمی معاشی بحران: بینک آف انگلینڈ کی رپورٹ

News Image
بینک آف انگلینڈ کے گورنر نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے جھٹکے مصنوعی ذہانت کی معیشت میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے دنیا بھر میں معاشی بدحالی پیدا ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بینک آف انگلینڈ کے گورنر نے عالمی معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تشویشناک انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک شدید معاشی زوال اور عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی یا جنگ کے اثرات توانائی کی سپلائی چین پر براہ راست پڑ رہے ہیں۔ توانائی کے ان شدید جھٹکوں کے باعث ٹیکنالوجی کے شعبے اور خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی زبردست دھچکا لگ سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی سسٹمز کو چلانے کے لیے انتہائی زیادہ مقدار میں بجلی اور توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، اور توانائی کے بحران کی صورت میں یہ شعبہ شدید غیر یقینی کا شکار ہو جائے گا۔ مالیاتی ماہرین اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کس طرح توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست ڈیجیٹل معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ بینک آف انگلینڈ کے سربراہ کے مطابق، اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو دنیا بھر کے مالیاتی منڈیوں میں ایک طلاطم برپا ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں عالمی اقتصادی سست روی یا مکمل معاشی زوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس انتباہ نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کس طرح ایک طرف توانائی کے روایتی بحران اور دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی کی توانائی کی ضروریات کو متوازن رکھا جائے۔ حکومتوں اور مرکزی بینکوں کو اب اس بات کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ وہ اس ممکنہ معاشی طوفان سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر حکمت عملی تیار کریں تاکہ عالمی تجارت اور معاشی ترقی کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے، ورنہ اس کے نتائج عالمی سطح پر انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔