LIVE
Loading Breaking News...

امریکی گلوکار ڈیوڈ کا قتل کیس، وکلاء نے چھوڑ دیا

News Image
امریکی گلوکار ڈیوڈ کے اعلیٰ درجے کے قانونی مشیروں نے چودہ سالہ سلست ریواس ہرنینڈز کے قتل کے مقدمے سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ اب اکیس سالہ گلوکار کی نمائندگی پبلک ڈیفنڈر کے ذریعے کی جائے گی جبکہ انہوں نے عدالت میں خود پر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔
امریکہ کے معروف نوجوان گلوکار ڈیوڈ کے نامور اور مہنگے وکلاء نے چودہ سالہ سلست ریواس ہرنینڈز کے قتل کے ہائی پروفائل مقدمے سے اچانک دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ اس قانونی پیشرفت کے بعد اب اکیس سالہ آرٹسٹ کی نمائندگی ایک سرکاری پبلک ڈیفنڈر کریں گے جو عدالت میں ان کا دفاع کریں گے۔ یاد رہے کہ اس مقدمے میں گلوکار پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن پر انہوں نے عدالت کے روبرو صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ قانونی حلقوں میں اس تبدیلی کو ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مقدمے کی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وکلاء کے الگ ہونے کی وجوہات فی الحال مکمل طور پر واضح نہیں کی گئیں، تاہم اس اقدام سے عدالتی کارروائی میں مزید تاخیر یا نئی قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری مقتولہ سلست ریواس ہرنینڈز کے لواحقین اور عامتہ الناس کی جانب سے اس کیس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور انصاف کی فراہمی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں پبلک ڈیفنڈر کی جانب سے نئی حکمت عملی کا اعلان کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ عدالت کی اگلی سماعت پر تمام فریقین کی پیشی لازمی قرار دی گئی ہے۔ مقدمے کی یہ نئی صورتحال میڈیا کی سرخیوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکی ہے اور موسیقی کی دنیا میں بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ گلوکار کے مداح اور ناقدین یکساں طور پر عدالت کے آئندہ فیصلوں اور قانونی کارروائی کی رفتار کے منتظر ہیں تاکہ حقیقت کا تعین ہو سکے۔