World
نیپال سیلاب: پرنسپل نے 900 طلبا کی جان بچانے کا واقعہ سنا دیا
نیپال کے ایک اسکول کے پرنسپل راجندر دواڈی نے حالیہ تباہ کن سیلاب کی خوفناک یادوں کا ذکر کیا ہے جب انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر نو سو سے زائد طلبا کو بحفاظت نکالا۔ اس مشکل گھڑی میں ان کی بروقت حکمت عملی اور جرأت مندانہ اقدام نے ایک بڑے انسانی المیے کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور بارشوں نے جہاں ملک بھر میں شدید تباہی مچائی، وہیں انسانی شجاعت اور بہادری کی ایسی داستانیں بھی سامنے آئیں جنہوں نے سب کو دنگ کر دیا۔ ایسے ہی ایک ہیرو نیپالی اسکول کے پرنسپل راجندر دواڈی ہیں، جنہوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر نو سو سے زائد معصوم طلبا کی زندگیاں بچائیں۔ حالیہ انٹرویو میں راجندر دواڈی نے اس خوفناک دن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح پانی تیزی سے اسکول کے احاطے میں داخل ہو رہا تھا اور چاروں طرف کٹاوت اور طغیانی کا عالم تھا۔ اس کٹھن اور ہنگامی صورتحال میں انہوں نے گھبرانے کے بجائے انتہائی مستعدی اور ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر ریسکیو پلان پر عمل درآمد شروع کیا۔ پرنسپل نے بتایا کہ پانی کا بہاؤ اتنی تیزی سے بڑھ رہا تھا کہ اسکول کی عمارت کو ہر طرف سے خطرہ لاحق ہو چکا تھا۔ اس خطرناک صورتحال میں تمام طلبا کو بحفاظت اونچی اور محفوظ مقامات تک پہنچانا ایک انتہائی بڑا اور مشکل چیلنج تھا۔ تاہم راجندر دواڈی اور ان کے اساتذہ نے باہمی تعاون اور انتھک محنت سے تمام نو سو طلبا کو ایک ایک کرکے سیلابی ریلے کی زد سے نکالا اور محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس بروقت اقدام کی بدولت کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچنا ممکن ہو سکا۔ مقامی حکاورم اور والدین نے پرنسپل کی اس شجاعت اور فرض شناسی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں اس طرح کی ایمرجنسی ٹریننگ اور تیاریاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں معصوم جانوں کو بروقت بچایا جا سکے۔