World
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف اے آئی ویڈیو کا استعمال، جے ڈی وینس کی تصدیق
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک سخت پیغام دینے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو کا استعمال کیا ہے۔ اس ویڈیو میں جزیرہ خارگ پر حملے کے مناظر دکھائے گئے ہیں جس کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے مزید انتباہات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکہ کے نو منتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو کے ذریعے ایران کو ایک طاقتور اور واضح پیغام بھیجا ہے۔ یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور واشنگٹن کی جانب سے تہران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ جے ڈی وینس کے مطابق، اسٹریٹجک نوعیت کے اس اقدام کا مقصد ایران کو امریکہ کے عزم اور صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ دکھانا تھا۔
زیرِ بحث آنے والی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں جزیرہ خارگ کو نشانہ بناتے ہوئے اور اس پر حملے کے مناظر کو انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ جزیرہ خارگ ایران کی تیل کی برآمدات اور معیشت کے لیے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس مقام کو ویڈیو میں دکھانے کے مخصوص اور گہرے معانی ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی علامتی اور ڈیجیٹل وارننگز کے ذریعے امریکہ تہران کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں اس کی اہم تنصیبات خطرے کی زد میں آ سکتی ہیں۔
اس اے آئی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید سخت بیانات اور انتباہات کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی انتظامیہ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور تہران کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس نوعیت کے ڈیجیٹل پیغامات اور علامتی دھمکیاں سفارتی سطح پر مزید تناؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔