World
امریکہ کا انتباہ: ایرانی معیشت کا چند ماہ میں خاتمہ ممکن
امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جی ٹوئنٹی کے وزرائے خزانہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باعث ایران کی معیشت چند ماہ کے اندر اندر مکمل طور پر بیٹھ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو تہران کی پالیسیوں کے خلاف سخت مالی اقدامات جاری رکھنے چاہئیں۔
امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حالیہ جی ٹوئنٹی کے وزرائے خزانہ کے ایک اہم اجلاس کے دوران ایران کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جاری شدید معاشی دباؤ کی مہم کے اثرات اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں اور موجودہ رجحانات کے تحت ایرانی معیشت کو آئندہ چند ماہ کے اندر ہی مکمل معاشی انہدام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن تہران پر مالی دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف عالمی فورمز پر اپنی کوششیں تیز کیے ہوئے ہے۔ جی ٹوئنٹی اجلاس کے دوران اسکاٹ بیسنٹ نے دنیا بھر کے مالیاتی رہنماؤں اور وزرائے خزانہ پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف لگائی جانے والی معاشی پابندیوں کو مکمل سختی کے ساتھ نافذ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کی حکومت کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے سے روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کی مالیاتی رگوں کو کمزور کیا جائے، جس کے لیے امریکی وزارتِ خزانہ بین الاقوامی سطح پر تعاون بڑھانے کی خواہاں ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے بیانات عالمی منڈی میں ایران کے تجارتی شراکت داروں کے لیے بھی ایک واضح پیغام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق، تہران کی اقتصادی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اگر موجودہ پابندیوں میں نرمی نہ کی گئی اور دباؤ برقرار رکھا گیا، تو وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ایرانی معیشت اپنے تمام بنیادی ڈھانچے سمیت گہرے بحران اور تباہی کا شکار ہو جائے گی۔ اس بیان سے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جبکہ اس کے اثرات عالمی تیل کی منڈیوں اور سفارتی حلقوں پر بھی پڑنے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔