LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال آتشزدگی کیس: پارلیمانی کمیٹیوں کی تحقیقات پر کڑے سوالات

News Image
پاکستان انسٹی ٹিউٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی ہلاکت خیز آگ کے واقعے پر پارلیمانی کمیٹیوں نے انکوائری رپورٹ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وزیراعظم نے غفلت برتنے پر اعلیٰ صحت حکام کو معطل کر دیا ہے جبکہ عدالت نے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔
اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹিউٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس ہولناک حادثے میں 14 معصوم نوزائیدہ بچے جان کی بازی ہار گئے تھے، جس کے بعد حکومتی اور پارلیمانی سطح پر ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیوں نے اس سانحے کی تحقیقات کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور فوری انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غفلت اور لاپرواہی برتنے پر محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار کو معطل کر دیا ہے۔ دوسری جانب، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اس دلخراش واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور ذمے داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس کے دوران اراکین نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اتنے ناقص کیوں ہیں اور نوزائیدہ بچوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ ماہرین صحت اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ محض معطلی کافی نہیں ہے بلکہ اس پورے نظام کی جانچ پڑتال کی جائے جو اس غفلت کا باعث بنا۔ پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں مزید اس بات پر زور دیا گیا کہ آئندہ اس قسم کے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے تمام بڑے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے نظام کو فوری طور پر اپ گریڈ کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔