World
الجزائر میں آتش زنی کے جرائم پر سزائے موت کا قانون متعارف
الجزائر کی حکومت نے ملک بھر میں تباہ کن جنگلات کی آگ کے واقعات کے تناظر میں آتش زنی کے مرتکب افراد کے لیے سزائے موت متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جنگلات کو نقصان پہنچانے اور قیمتی انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کی سختی سے حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
الجزائر کی حکومت نے ملک میں حالیہ تباہ کن اور جان لیوا جنگلات کی آگ کے المناک واقعات کے بعد سخت ترین قانونی قدم اٹھاتے ہوئے آتش زنی کے مجرموں کے لیے سزائے موت کا اعلان کیا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران الجزائر کے مختلف جنگلات میں لگنے والی پراسرار اور خوفناک آگ کی وجہ سے نہ صرف قیمتی قدرتی وسائل کا نقصان ہوا بلکہ متعدد معصوم انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں، جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ حکام کے مطابق اس طرح کے مجرمانہ اقدامات سے نمٹنے کے لیے اب قانون کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے۔
حکومتی ذرائع اور کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم اور دیگر وزراء نے متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنگلات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر بھی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر اداروں نے الجزائر کے عوام اور قیادت کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اس مشکل گھڑی میں ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔
نئے قوانین کے نفاذ کے بعد آتش زنی میں ملوث پائے جانے والے عناصر کے خلاف کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور عدالتوں کے ذریعے فوری اور سخت ترین فیصلے صادر کیے جائیں گے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس طرح کے سخت سزائی اقدامات سے مستقبل میں جنگلات کو جان بوجھ کر آگ لگانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ملک کے قیمتی ماحول اور عوامی املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔